Al Jamiatul Ashrafia
Al Jamiatul Ashrafia

Al Jamiatul Ashrafia

الجامعۃ الاشرفیہ (مبارک پور، اعظم گڑھ، یوپی) برصغیر ہند کا ایک معتبر اور قدیم دینی و علمی ادارہ ہے، جو ابتدا میں ایک چھوٹے مکتب کی حیثیت سے وجود میں آیا اور وقت کے ساتھ بڑھتے ہوئے ایک عظیم الشان عالمی اسلامی درسگاہ کی شکل اختیار کر گیا۔ اس کے فضلاء دنیا بھر—امریکہ، افریقہ اور یورپ—میں تدریسی، دعوتی اور تنظیمی خدمات انجام دے رہے ہیں۔


تاسیسی پس منظر

مدرسہ مصباح العلوم (۱۸۹۹ء / ۱۳۱۷ھ)

  • مبارک پور کے غریب مگر دینی حمیت رکھنے والے مسلمانوں نے پُورہ رانی دینا بابا کی مسجد کے قریب ایک چھوٹے مکان میں مکتب قائم کیا۔

  • اس میں ناظرہ قرآن اور ابتدائی دینی تعلیم دی جاتی تھی۔

  • ابتدا میں فرقہ وارانہ اختلافات نہیں تھے، البتہ بعد میں دیوبندی و اہل سنت کا اختلاف پیدا ہوا جس کے باعث مدرسہ کچھ عرصہ کے لیے بند بھی ہوا۔

دوسری نشاۃِ ثانیہ (۱۹۱۱ء / ۱۳۲۹ھ)

  • اہل سنت نے دوبارہ مدرسہ کو زندہ کیا اور اس کا نام مدرسہ لطیفیہ اشرفیہ مصباح العلوم رکھا، جو رفتہ رفتہ ’’مدرسہ اشرفیہ مصباح العلوم‘‘ کے نام سے معروف ہوا۔


حافظِ ملت کی آمد اور عظیم انقلاب

علامہ شاہ عبدالعزیز محدث مرادآبادی (حافظ ملت)

  • اہل سنت نے حالات کی نزاکت دیکھتے ہوئے صدرالشریعہ مولانا امجد علی اعظمٰی اور محدث اعظم ہند کی مشاورت سے حافظ ملت کو صدر مدرس مقرر کیا۔

  • حافظ ملت کی قیادت نے اشرفیہ کو ایک نئے عہدِ ترقی میں داخل کر دیا۔


دارالعلوم اہل سنت اشرفیہ (۱۹۳۵ء)

  • چندہ مہم کے ذریعے مبارک پور کے عوام نے بے مثال ایثار کا ثبوت دیا۔

  • گولہ بازار میں وسیع زمین خرید کر ۱۹۳۵ء میں دارالعلوم اشرفیہ کا سنگِ بنیاد رکھا گیا۔

  • دس سال میں دو منزلہ عظیم الشان عمارت تیار ہوئی اور چالیس برس تک یہ مرکزِ تعلیم رہا۔

  • ۲۰۰۰ء میں پرانی عمارت کی جگہ پانچ منزلہ جدید عمارت مکمل ہوئی۔


جامعہ اشرفیہ کا قیام

نئے شہرِ علم کا خواب

  • بڑھتی ہوئی ضروریات دیکھتے ہوئے حافظ ملت نے آبادی سے دور ویران علاقے میں ایک وسیع جامعہ قائم کرنے کا منصوبہ تیار کیا۔

  • ۵–۷ مئی ۱۹۷۲ء کو پہلی عظیم علمی کانفرنس منعقد ہوئی جس میں ملک بھر کے نامور علما و مشائخ نے شرکت کی، جن میں مفتی اعظم ہند اور دیگر اکابر شامل تھے۔

  • اسی کانفرنس میں الجامعۃ الاشرفیہ کا سنگِ بنیاد رکھا گیا۔

تعمیر و ترقی

  • ڈیڑھ سال میں مرکزی دو منزلہ درسگاہ مکمل ہو گئی۔

  • دارالحدیث پر خوبصورت گنبد تعمیر ہوا۔

  • ۱۹۷۳ء میں دوسری علمی کانفرنس میں نصاب، نظامِ تعلیم اور آئینِ جامعہ پر غور ہوا۔


جامعۃ الاشرفیہ—موجودہ صورتِ حال (۲۰۰۱ء کے اعداد و شمار)

  • ڈیڑھ سو سے زائد اساتذہ و ملازمین

  • ۱۲ سو سے زیادہ ہاسٹل کے طلبہ

  • پرائمری، ہائی اسکول، نسواں شاخوں اور دیگر شعبوں میں ۶ ہزار کے قریب طلبہ و طالبات

  • متعدد مدارس کے اساتذہ کی تنخواہیں بھی اشرفیہ ادا کرتا ہے۔

  • تعمیر و ترقی کے کام باوقار اور منظم انداز میں جاری ہیں۔

  • حافظ ملت کے صاحبزادے علامہ شاہ عبدالحفیظ مرادآبادی کی قیادت میں ادارہ مسلسل کامیابی کے ساتھ آگے بڑھ رہا ہے۔


نتیجہ

الجامعۃ الاشرفیہ مبارک پور ایک چھوٹے مکتب سے شروع ہو کر آج برصغیر کی عظیم مرکزی دینی درسگاہوں میں شمار ہوتا ہے۔ اس کی ترقی عوام کے اخلاص، اکابر اہل سنت کی سرپرستی، اور حافظ ملت کی بے مثال قیادت کا ثمرہ ہے۔ آج یہ ادارہ دین و علم کا روشن مینار اور پوری دنیا میں اہل سنت و جماعت کا معتبر علمی مرکز ہے۔

Overview

  •   Madrasa Type: Boys
  • Founder / Principal Name: Mufti Badr e Alam Misbahi
  • Affiliation / Board: Darul Uloom
  • Education Levels Offered:: Nazra,Hifz,Aalim Course,Mufti Course,Islamic Studies
  • Medium of Instruction: Urdu,English,Hindi
  • Facilities Available: Masjid,Library,Hostel,Computer Lab,Guest House,Play Ground,Separate Building for Girls

Location

Mubarakpur Azamgarh UP,Uttar Pradesh

Leave a Comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *